07/07/2026
پنجاب کے ایک گاؤں نے جنازے کی رسم کو بدل کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
جہاں ایک غریب شخص کا جنازہ جب جنازہ گاہ پہنچا اور صفیں درست ہوئیں، تو امام صاحب نے شرکاء سے مخاطب ہو کر ایک دل سوز اعلان کیا:
یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں، اپنے گھر کا واحد کفیل اور سہارا تھا۔ سوگواران میں صرف ایک بیوہ اور تین چھوٹے بچے ہیں۔ عدت کے ایام میں ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ لہٰذا، جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ جو بھی صاحبِ توفیق بغیر کسی دکھلاوے کے، اللہ کی رضا کے لیے ایک روپے سے لے کر اپنی حیثیت کے مطابق جتنی رقم دے سکتا ہے، وہ وہاں ڈال دے۔
جنازے کے بعد جب چادر سے رقم جمع کی گئی تو وہ ایک لاکھ روپے سے زائد کی تھی۔ کسی کے 10 روپے تھے تو کسی کے 100، کسی کے 500، 1000 لیکن اس مشترکہ ہمدردی نے یتیم بچوں کے لیے کئی مہینوں کا معاشی سکون فراہم کر دیا۔ تعزیت صرف ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا نام نہیں، بلکہ دکھ کی گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی پودا لگائے اور اس سے کسی انسان، پرندے یا جانور کو فائدہ پہنچے، تو لگانے والے کو اس کا بھی ثواب ملتا رہتا ہے۔
02/04/2026