20/10/2024
ڈاکٹرذاکر نائیک پر تنقید سے پہلے انکی ہسٹری دیکھ لیا کریں کہ وہ ہے کون؟ تاکہ بعد میں اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کی نوبت نہ آئے
We Are Providing All Kinds Of Office Furniture
20/10/2024
ڈاکٹرذاکر نائیک پر تنقید سے پہلے انکی ہسٹری دیکھ لیا کریں کہ وہ ہے کون؟ تاکہ بعد میں اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کی نوبت نہ آئے
18/10/2024
یہ دنیا کے مختلف ممالک کے بہترین کہاوتیں ہیں:
"جو اپنے پڑوسی کے گھر کو ہلاتا ہے، اس کا اپنا گھر گرجاتا ہے" (سوئس کہاوت)
"اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر کھا لے تو اسے روٹی کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا" (اسکاٹ لینڈ کہاوت)
"اگر تم مسکرانا نہیں جانتے تو دکان نہ کھولو" (چینی کہاوت)
"اچھی شکل سب سے مضبوط سفارش ہے" (انگلش کہاوت)
"نیکی کرنا احسان فراموش کے ساتھ ایسا ہے جیسے سمندر میں عطر ڈالنا" (پولینڈ کہاوت)
"اگر تم کسی قوم کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی عورتوں کو دیکھو" (فرانسیسی کہاوت)
"ہم اکثر چیزوں کو ان کی حقیقت سے مختلف دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صرف عنوان پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں" (امریکی کہاوت)
"دوسروں کی غلطیاں ہمیشہ ہماری غلطیوں سے زیادہ واضح ہوتی ہیں" (روسی کہاوت)
"تمہاری قناعت تمہاری نصف خوشی ہے" (اطالوی کہاوت)
"ہر انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے" (انگلش کہاوت)
"اپنے دماغ کو علم سے لیس کرو، بہتر ہے کہ جسم کو زیورات سے سجاؤ" (چینی کہاوت)
"خود پسندی جہالت کی پیداوار ہے" (اسپین کہاوت)
"وہ محبت جو تحفوں پر انحصار کرے، ہمیشہ بھوکی رہتی ہے" (انگلش کہاوت)
"اس عورت سے ہوشیار رہو جو اپنی فضیلت کے بارے میں بات کرتی ہے اور اس مرد سے جو اپنی دیانت داری کے بارے میں بات کرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"اپنی بیوی کو محبت دو اور اپنی ماں کو اپنا راز بتاؤ" (آئرلینڈ کہاوت)
"پانچ سال تک اپنے بچے کو شہزادہ بناؤ، دس سال تک غلام کی طرح اور اس کے بعد دوست بن جاؤ" (ہندی کہاوت)
"انسان ہونا آسان ہے، مگر مرد بننا مشکل ہے" (روسی کہاوت)
"میرے خاندان نے مجھے بولنا سکھایا، اور لوگوں نے مجھے خاموش رہنا سکھایا" (چیکوسلوواک کہاوت)
"جو لوگوں کو علم کی نظر سے دیکھتا ہے ان سے نفرت کرتا ہے؛ اور جو انہیں حقیقت کی نظر سے دیکھتا ہے انہیں معاف کرتا ہے" (اطالوی کہاوت)
"غصہ ایک تیز ہوا ہے جو عقل کے چراغ کو بجھا دیتا ہے" (امریکی کہاوت)
"جو لوگ دیتے ہیں انہیں اپنے دینے کی بات نہیں کرنی چاہیے، جبکہ جو لوگ لیتے ہیں انہیں اس کا ذکر کرنا چاہیے" (پرتگالی کہاوت)
"بڑا درخت زیادہ سایہ دیتا ہے مگر کم پھل دیتا ہے" (اطالوی کہاوت)
"اپنی فکر کو پھٹی ہوئی جیب میں ڈال دو" (چینی کہاوت)
"زیادہ کھا لینا بھوک سے زیادہ نقصان دہ ہے" (جرمن کہاوت)
"ہر دن بوئے، ہر دن کھاؤ" (مصری کہاوت)
"اے انسان، موت کو نہ بھولو کیونکہ یہ تمہیں نہیں بھولے گی" (ترکی کہاوت)
"انتقام کی لذت ایک لمحے کی ہے، مگر معافی کا سکون ہمیشہ کے لئے رہتا ہے" (اسپین کہاوت)
"محبت اور خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا" (چینی کہاوت)
"جس کی جیب خالی ہو، اسے اپنی زبان کو میٹھا بنانا چاہیے" (ملائیشیائی کہاوت)
"پانی کے چھوٹے قطرے بھی ندی بنا سکتے ہیں" (جاپانی کہاوت)
"اللہ پرندوں کو رزق دیتا ہے مگر انہیں اسے پانے کے لیے پرواز کرنا پڑتا ہے" (ہالینڈ کہاوت)
"محبت تب تک باقی رہتی ہے جب تک پیسہ ہوتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"جو اپنے دوست کو قرض دیتا ہے، وہ دونوں کو کھو دیتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"جو کوئی خوبصورت عورت سے شادی کرتا ہے اسے دو آنکھوں سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے" (انگلش کہاوت)
"جس کی پشت پر تنکا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ آگ سے ڈرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"جس نے منزل تک پہنچنے کا عزم کر لیا، اس نے ہر رکاوٹ کو معمولی سمجھا" (فرانسیسی کہاوت)
"جو خود کو بھیڑ سمجھتا ہے، بھیڑیا اسے کھا جائے گا" (فرانسیسی کہاوت)
کامیابی کا سفر نماز اور قرآن کے بغیر ادھورا ہے
بے حیائی سے اگر بچنا ہے تو تنہائیاں
پاکیزہ کرنی ہوں گی، معاشرے تب ہی
پاکیزہ ہوتے ہیں جب تنہائیاں پاکیزہ ہوں........
اللہ کریم عبادات و معاملات میں ہماری رہنمائی فرماۓ ہماری کوتاہیوں کو معاف فرماۓ اور ہماری مشکلات میں آسانیاں عطا فرماۓ اور ہمیں دوسروں کو آسانیاں دینے کی توفیق عطا فرماۓ آمین 🤲
زندگی ایک نوٹ بک ہے.....دو صفحے پہلے ہی خدا نے لکھے ہوئے ہیں، پہلا صفحہ پیدائش، آخری صفحہ موت، مرکز کا صفحہ خالی ہے تو انہیں مسکراہٹ اور پیار سے بھر دو۔..!!
15/09/2024
ٖ 🔴 میلاد منانے کا شرعی حکم 🔴
سوال » ⚪ آپ میلاد کیوں نہیں مناتے ؟ ⚪
جواب » ⚪ آپ میلاد کیوں مناتے ہیں ؟ ⚪
🔺 میلاد کا کیا حکم ہے؟ کوئی شخص خوشی سے میلاد منانا
چاہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ میلاد منانے والے کا کیا حکم ہے؟
جواب »
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا ذکر یا آپ کے اوصاف ومحاسن اور عبادات ومعاملات کا ذکرحتی کہ جس چیز کی ادنیٰ نسبت بھی نبی کریم ﷺکی جانب ہو اس کا ذکر یقیناً فعلِ مستحسن اور باعثِ اجروثواب ہے، یقیناً آپ ﷺ کی دنیا میں آمد دنیا کے لیے ایک نعمت ہے، اندھیروں میں ایک روشنی ہے، ایک مسلمان کا خوش ہونا فطری امر ہے، جس سے انکار ممکن نہیں، البتہ اس پر خوش ہونے کا وہی طریقہ اختیار کرنا جائز ہے جو محسنِ کائنات ﷺ سے ثابت ہو، یا صحابہ وتابعین نے اس پر عمل کیا ہو، یہی آپ ﷺ کی آمد کے مقصد کی حقیقی پیروی ہے، چوں کہ مروجہ میلاد کا ثبوت قرآن وحدیث اور صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین میں سے کسی سے نہیں ہے، بلکہ یہ ساری چیزیں بعد کے لوگوں کی ایجاد کردہ ہیں،اور بدعات میں شامل ہیں، لہذا ان کا ترک کرنالازم ہے۔
’’بدعت‘‘ اس عمل کو کہا جاتاہے جسے نیک کام سمجھ کر کیا جائے، اس کا التزام ہو، اس کے نہ کرنے پر نکیر ہو، اور وہ ایسا عمل ہو کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعینِ کرام اور تبع تابعین رحمہم اللہ کے زمانے میں اس عمل کی ضرورت ہونے کے باوجود وہ اس پر عمل نہ کریں، یا اس طرح عمل نہ کریں جس کیفیت کے ساتھ اِس دور میں لازم سمجھا جارہاہے۔
اب دیکھیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو ہم سے بہت سے زیادہ نیکیوں کے حریص، ہم سے زیادہ عبادات کا شوق رکھنے والے اور ہم سے زیادہ آپ ﷺ کے عاشقِ صادق تھے، انہوں نے اس عمل کو اختیار نہیں کیا، جب کہ انہیں ہم سے زیادہ اس کی ضرورت تھی، اور وہ چاہتے تو یہ کرسکتے تھے، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ﷺ سے یہ نہیں سیکھا، حال آں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضورِ اکرم ﷺ کا مزاج سمجھتے تھے، اس لیے عشق ومحبت کے باوجود انہوں نے ایسا عمل نہیں کیا جو حضور ﷺ کو ناپسند ہو، اور حقیقی محبت یہی ہے کہ جس میں محبوب کی راحت رسانی ہو، یہ کمالِ محبت نہیں کہ آدمی اپنی چاہت پوری کرکے محبوب کو تکلیف پہنچائے اور پھر اسے اپنی محبت کا تقاضا کہے۔
لہذا مروجہ میلاد کی مجالس کا کیوں کہ خاص کیفیات کے ساتھ التزام کیا جاتاہے، اور نہ کرنے والوں کو برا کہا جاتاہے، اس لیے ان کے بدعت ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
ولادت کی خوشی میں یوں کرنا چاہیے کہ آپ کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے کا عزم کرلیں، یہ حقیقی محبت ہے، دن اور وقت متعین کیے بغیر آپ کی دنیا میں آمد پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے شکرانہ کے نوافل ادا کرلیں، روزے رکھیں، کثرت سے انفرادی طور پر اخلاص کے ساتھ درود شریف پڑھ کر آپ کو اس کاثواب پہنچائیں، اس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ دونوں ہی خوش ہوں گے۔
اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے شہیدِ اسلام حضرت مولانامحمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی کتاب ’’اختلافِ امت ا ور صراط مستقیم ،ص:86تا98‘‘ ملاحظہ فرمائیں
14/09/2024
ربیع الاول کے ایام اور نبی ﷺ کی محبت کا پیغام
رسول اللہ ﷺ کی محبت ایمان کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
" تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں" (صحیح بخاری)
یہ حدیث ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔ محبت کا مطلب صرف زبانی عقیدت نہیں بلکہ آپ ﷺ کی سنت اور تعلیمات پر عمل کرنا ہے۔
ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو نبی کریم ﷺ کی سیرت کے مطابق ڈھالیں۔ ہمیں ہر موقع پر اپنے اخلاق اور عمل کو بہتر بنانا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں ایک بہت بڑا حصہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
" تم میں سے بہترین وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے" (صحیح بخاری)
ہمیں اپنی زندگی میں اور خاص طور پر ربیع الاول کے ان دنوں میں اپنے رویوں اور اخلاق کو دیکھنا چاہیے۔ کیا ہم اپنے گھر والوں، دوستوں اور اردگرد کے لوگوں کے ساتھ اس حسن سلوک سے پیش آ رہے ہیں جو نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا؟
ربیع الاول کے ان بابرکت دنوں میں، ہمیں اپنے معمولات میں نیکیوں کا اضافہ کرنا چاہیے۔ چاہے وہ نماز کا اہتمام ہو، صدقہ و خیرات دینا ہو، یا پھر کسی ضرورت مند کی مدد کرنا۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے اور ان کی مدد کرنے کا درس دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت پر چلنے اور ہماری زندگیوں کو ان کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲
اگر یہ پیغام پسند آئے تو اس پر ہارٹ ری ایکٹ دیں اور شیئر ضرور کریں۔ ❤
خدا سے ملاقات کا حوالہ شائد ایسا نہ ہو جیسے بتایا جاتا ہے! شاید سوال صرف یہ نہ ہو کہ زندگی کیسے گزاری بلکہ خدا یہ بھی تو پوچھ سکتا ہے ؟
کہ تم پر زندگی کیسے گزری ؟
معاف کر کے آگے بڑھ جایا کریں اُن سب لوگوں کو جِنہوں نے آپ کی دِل آزاری کی ہو، تُہمت لگائی ہو، بُرا بھلا کہا ہو، پریشان کِیا ہو، سب اللہ پر چھوڑ دیں اور یقین مانیں ہمارا رب کُچھ بھی نہیں بُھولتا اور جب وہ حِساب برابر کرتا ہے تو نا اِنصافی نہیں کرتا...
دنیا میں سب سے تیز رفتار چیز دعا ہے اسکی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ یہ دل سے زبان تک آنے سے پہلے ربّ تک پہنچ جاتی ہے...
حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمه الله تعالیٰ نے دورِ جدید میں شکوک وشبہات سے بچنے کے لیے تین کاموں کی پابندی کا مشورہ دیا ہے، جن کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:-
(1) شبہات کو مرض سمجھا جائے اور ان کا اسی طرح علاج کیا جائے جس طرح جسمانی امراض کا کیا جاتا ہے۔ ایک عالم سے مطمئن نہ ہوں تو دوسرے کے پاس جائیں، لیکن شبہات پال کر نہ بیٹھیں۔
(2) اپنی سمجھ اور فہم پر ایسا اعتماد نہ کریں کہ ہمارے خیال میں کوئی غلطی نہیں، بلکہ علماء سے رجوع کے بعد اپنے غلط خیالات اور شبہات سے رجوع کی عادت ڈالیں۔
(3) اتباع کی عادت پیدا کریں، متعلقہ فن کے ماہر کی بات مانیں۔ ہر بات کے دلائل اور اسرار و رموز کا مطالبہ نہ کریں کہ وہ آپ کی سمجھ سے بالا ہوسکتے ہیں۔
یہ بات انہوں نے اپنی مشہور کتاب "الانتباہات المفیدة عن الاشتباهات الجدیدة" کی ابتدا میں لکھی ہے۔ اصل کتاب اردو میں ہے، عربی اور انگریزی دونوں ترجمے بھی دستیاب ہیں۔