Abad Zameen

Abad Zameen

Share

If you're on the lookout for a new property or seeking to sell yours, you've come to the right place.

24/09/2025

پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شجر کاری کیلئے خصوصی احکامات جاری
راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ موسم شجر کاری مہمات میں ہزاروں درختوں کو لگانے کے بعد بھی سایہ دار اور پھلدار درختوں کی کم ہوتی تعداد

راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی) راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈز کے علاقوں میں ہر سال شجر کاری کے موسم میں لاکھوں روپے مالیت کے ہزاروں درخت لگائے جانے کے بعد بھی چھاونی کے علاقوں میں سایہ دار اور پھلدار درختوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے پاکستان کو درپیش موسمی تبدیلیوں سے بچانے اور پاکستان کے مستقبل کو سر سبز و شاداب بنانے کیلئے شجر کاری کیلئے واضع احکامات جاری کر رکھے ہیں اور ہر سال بہار کے موسم سے قبل ہی ملک بھر کی طرح راولپنڈی شہر و چھاونی کے علاقوں میں شجر کاری مہمات چلانے کیلئے واضع احکامات بھی جاری تو کیے جاتے ہیں لیکن سالوں سے ہر سال راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقوں میں عوام کے ٹیکسوں کی کمائی سے ہزاروں درخت تو لگائے جاتے ہیں لیکن ہر سال ہی انکی تعداد نا ہونے کے برابر رہ جاتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہر سال موسم بہار کے آنے سے پہلے سارے علاقے بغیر درختوں کے راولپنڈی و چکلالہ کے گارڈن برانچ کی بہترین کار کردگی کی داستانین سناتے نظر آتے ہیں اور گزشتہ سال جن جگہوں پر پہلے درخت لگائے گئے تھے وہاں ہی اور درخت لگا کر فائلوں کا پیٹ بھر دیا جاتا ہے اور یوں وہ لگائے گئے درخت چند ماہ کے بعد ہی پھلنے پھولنے کی بجائے ختم ہو جاتے ہیں اور اگلے سال موسم بہار کے آنے سے پہلے انکے نام و نشان ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وطن عزیز کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے ملک بھر میں ہر سال موسم بہار سے قبل موثر اور بھر پور مہامات چلانے کے واضع احکامات جاری کر رکھے گئے ہیں اور انہی کے احکامات کی روشنی میں راولپنڈی و چھاونی کے علاقوں میں بھی موسم بہار سے قبل سایہ دار اور پھلدار درخت لگانے کے واضع احکامات جاری کر رکھے ہیں لیکن کمال حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر سال ہزاروں درخت لگائے جانے کے بعد بھی راولپنڈی و چھاونی کے علاقوں میں پھلدار اور سایہ دار درختوں کی تعداد انتہائی کم ہے اگر اس ضمن میں کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گ

24/09/2025

راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں پانی کی غیر قانونی بورنگز کا انکشاف

پانی کی زیر زمین سطح سینکڑوں فٹ تک جا پہنچی، محکمے کو فیسوں کی مد میں مالی خسارہ لیکن مخصوص ملازمین کا گروہ مستفید ہونے لگا، ذرائع

کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا،ادارہ

راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی) راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں پانی کی غیر قانونی بورنگز کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح سینکڑوں فٹ تک گر چکی ہے جوکہ ایک جانب آنے والے گرمیوں کے سیزن میں اہلیان کینٹ کیلئے بڑے خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہے تو دوسری جانب محکمے کو بھی فیسوں کی مد میں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی رہائشی و کمرشل عمارت کے سامنے پانی کی بورنگ کروانے سے پہلے راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ سے با قائدہ این او سی (NOC) لینا ضروری ہوتا ہے اور ہر این او سی کے بدلے مالک کو کنٹونمنٹ بورڈ کے اکاونٹ میں دس ہزار سے لیکر پچاس ہزار روپے تک فیسوں کی مد میں جمع کروانے ہوتے ہیں لیکن راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ کی ہر گلی کے اٹھویں سے دسویں گھر کے سامنے پانی کے حصول کیلئے بورنگز کرنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور متعدد بار بھی متعلقہ ڈیپارٹمنٹ اور ترجمان سے پوچھنے پر بھی ان بورنگز کی تعداد نہیں بتائی گئی جوکہ اس بات کی واضع دلیل ہے کہ محکمے کے پاس یا تو ان کنکشنز کا ریکارڈ نہیں ہے یا حقائق چھپانے کی وجہ مبینہ مفادات ہیں وجہ کوئی بھی ہو لیکن امر واضع ہے کہ ایک جانب ان نجی بورنگز کی وجہ سے پانی کی زیر زمین سطح تیزی سے گرتی جا رہی تو دوسری جانب ان بورنگز کا فائدہ محکمے کو ہونے کی بجائے ملازمین کے مخصوص گروہ کو ہو رہا ہے جس کی وجہ سے نا صرف حقائق پر پردے ڈالے جا رہیں بلکہ اس بڑے مسئلے کو چھوٹی سے غیر معمولی بات کہ کر ٹالنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ اگر اس ضمن میں کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانب دارانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا۔

24/09/2025

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی بیسمنٹ میں نقشے بنانے کا کاروبار اپنے عروج پر پہچ گیا

بورڈ سے منسلک نقشہ نویس کا بیٹا بھی ٹیم کا حصہ، نقشہ برانچ میں بھرتی ہر سیکشن میں عزیز و اقارب کی بھرتیاں کرواکر جڑین مضبوط کر لی گئیں، ذرائع

راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے بیسمنٹ میں نقشے بنانے کا دھندہ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور اس برانچ میں کنٹونمنٹ بورڈ سے منسلک ایک نقشہ نویس کے بیٹے کو بھی بھرتی کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ متعدد تعمیرات ایسی ہیں جنکی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں لیکن روائز پلازن جمع ہونے یا نقشہ منظور ہونے کی کہانیاں سناتے ہوئے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو فوری دبا بھی دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت انتہائی خوفناک اور بھیانک ہے ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ متعدد تعمیرات ایسی ہیں جن کے نقشے منظوری کیلئے آتے ضرور ہیں لیکن انکی منظوری سے قبل ہی تعمیرات شروع کر دی جاتی ہیں اور کئی تعمیرات ایسی بھی ہیں جن کو مبینہ بچانے کیلئے انکے روائز پلان جمع کروانے جانے کا لالی پپ تو دتھما دیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک بھی روئز پلان فراہم نہیں کیا جاتا جسکی اصل وجہ نقشہ برانچ میں موجود مخصوص گروہ ہے جوکہ بھرتی کسی اور سیٹوں پر ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی جڑیں کنٹونمنٹ بورڈ میں اتنی مضبوط کر لی ہیں کہ اب وہ یہاں بیٹھ کر پورے کنٹونمنٹ بورڈ کے بیس کے بیس وارڈوں کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں اور بچارے بلڈنگ انسپکٹرز مسلسل بلی کا بکرا بنتے چلے آرہے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ گروہ جس نے اپنی عزیز و اقارب کو کنٹونمنٹ بورڈ کے مختلف سیکشنوں میں بھرتی کرواتے ہوئے اپنی اجارہ داری قائم کر لی ہے وہ ان خلاف ورزیوں کا اصل ذمہ دار ہے۔ یاد رہے کہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے قوانین کے مطابق پہلے تمام کا غذی کاروائیاں مکمل کی جاتی ہیں اسکے بعد ڈرفٹ مین و دیگر اسٹاف موقع کا معائنہ کرتے ہیں اور اسکے بعد فیسیں جمع ہوتی ہیں اور اسکے بعد باری اعتراضات کی آتی ہے جنکو دور کرنے کے بعد ہی مہانہ بورڈ میٹنگ میں نقشے کی منظوری دی جاتی ہے لیکن گزشتہ چند سالوں سے کنٹونمنٹ بورڈ کے سبھی وارڈوں میں بڑی تیزی سے اولڈ گرانٹس کو توڑ کر یا نئی تعمیرات کا کام تیزی سے جاری ہے اور جب بھی کسی بھی عمارت کی قانونی حیثیت جاننے کیلئے رابطہ کیا جاتا ہے تو اسکا نقشہ منطور ہونے یا روائز پلان جمع ہونے کا میٹھا لالی پپ تو دیدیا جاتا ہے لیکن کسی ایک بھی عمارت کا نقشہ فراہم نہیں کیا جاتا یاد رہے کہ نقشہ پبلک پرا پرٹی ہوتا ہے اور اسکو بوقت ضرورت فراہم کیا جا سکتا ہے لیکن اسکو چھپا کر رکھنے کے پیچھے نقشہ برانچ کے کون سے مقاصد ہیں یہ تو وہی بتا سکتے ہیں لیکن ہر وارڈ میں درجنوں تعمیرات ایسی ہیں جن پر سوالیہ نشان لگائے جا سکتے ہیں۔ اگر اس ضمن میں کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانب دارانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا۔

24/09/2025

راولپنڈی و چکلالہ کے گھروں کے سامنے گاڑیوں کو دھونے کا سلسلہ جاری، سروس اسٹیشنز پر بھی ری یوز کا نظام نصب نہیں

متعدد علاقوں میں دو دن بعد پانی، متعدد میں سرے سے ہی غائب جبکہ سروس اسٹیشنوں پر کھلم کھلا خلاف ورزیاں، اہلیان کینٹ کی دوہائیاں

راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی) راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں سینکڑوں سروس اسٹینشوں کی موجودگی کے با وجود بھی انتظامیہ پانی کو ری یوز کروانے کیلئے پلانٹس لگوانے میں ناکام ہوتی نظر آرہی ہے۔ یاد رہے کہ عاملی سطح پر پانی کی قلت کے بڑھتے مسائل اور پڑوسی ملک کی جانب سے پانی کی بندش کے بعد کنٹونمنٹ بورڈز کی جانب سے ایک طرف گاڑیوں، گھروں کے گیراجوں اور تھڑوں کو دھونے پر سختی سے پا بندی عائد کی گئی تو دوسری جانب راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں موجود سروس اسٹیشنز جن کی تعداد سینکٹروں میں بتائی جا رہی ہے پانی کو ری یوز کرنے کے واجع احکامات جاری کیے گئے اور تمام سروس اسٹیشن مالکان کو ری فلنگ پلانٹس لگانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں لیکن چند ایک کر علاوہ سبھی بغیر ری یوز پلانٹس کے کام کر رہے ہیں جوکہ ایک جانب واٹر اینڈ ریکوری سیکشن کی کار کردگی پر سوالیہ نشان بنا رہے ہیں تو دوسری جانب پانی کے بے جا استعمال سے لاکھوں شہری سرکاری سطح پر پانی کی فراہمی سے محروم ہیں۔ گرمیوں کے سیزن میں دونوں کنٹونمنٹ بورڈ سے متعدد علاقے کربلا کا منظر پیش کرتے ہیں متعدد علاقے ایسے ہیں جہاں دو دن کے بعد چند منٹوں کیلئے پانی آتا ہے اور متعدد علاقے تو ایسے بھی ہیں جہاں پانی سرے سے آتا ہی نہیں ہے اور کنٹونمنٹ بورڈ کے یہ رہائشی محکمے کو ہر چیز کا ٹیکس دینے کے بعد بھی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جسکی بنیادی وجہ واٹر اینڈ ریکوری سیکشن کا وہ عملہ ہے جو اپنے فرائض پوری توجہ سے ادا نہیں کر رہا اور ہر گلی میں گھروں کے سامنے گاڑیوں، فٹ پاتھوں اور گیراجوں کو دھونے کے علاوہ علاقے میں موجود سروس اسٹیشنوں پر پانی کو ری یوز کرنے کا نظام تا ھال نصب نہیں کیا جا سکا ہے جس کی وجہ سے نا صرف قدرت کا امول تحفہ پانی ضائع ہو رہا ہے بلکہ راولپنڈی و چکلالہ کے متعدد علاقوں میں مقیم ہزاروں لوگوں کیلئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اگر اس ضمن میں کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانب دارانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا۔

24/09/2025

راولپنڈی و چکلالہ میں تعینات عملے کا پراپرٹی ڈیلروں ، ڈویلپرز سے گٹھ جوڑ ، ایک ایک نقشے پر متعدد تعمیرات

سینکڑوں تعمیرات کے حوالے سے نقشہ منظور یا روایز پلان کا دعویٰ لیکن حقیقت میں کہانی کچھ اور ، محکمہ غریب اور ملازمین کروڑ پتی

نقشے بنوانے پاس کروانے سے لیکر پاس کروانے اور تعمیرات کروانے تک ٹھیکے ، کوئی بھی ذمہ دار شواہد کے ساتھ موقف دے سکتا ہے ، ادارہ

متعدد دن ایک دو بجے دفتر آنے کے عادی ، تبادلوں کے بعد بھی فیصلوں پر اثر انداز ، ذرائع کا مافیا کے ساتھ کاروباری شراکت کا بھی الزام

راولپنڈی ( رپورٹ/ سعید قریشی) راولپنڈی چھاؤنی کے علاقوں میں ایک ایک نقشے پر متعدد تعمیرات کو پایا تکمیل تک پہنچائے جانے کے شبہ نے تعینات عملے کی کار کردگی پر سوالیہ نشان بنا دیا ہے ۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مخصوص علاقوں میں تعینات ملازمیں نے زمینوں کے کاروبار سے منسلک پرا پرٹی ڈیلرز اور ڈویلپرز سے تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور ایک دو مکانوں کے نقشوں کے بعد وہی نقشے اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں یا سوال پوچھنے والوں کو دیکھا کر یا اسکا نوشہ منظور ہے کا لالی پپ دیکر چپ کروا دیا جاتا ہے اور یوں ٹیکسوں اور فیسوں کی مد میں محکمے کو سالانہ کروڑوں روپے کا مالی خسارہ پہنچایا جا رہا ہے لیکن جو یہ خسارہ پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں انکی سوشل میڈیا آی ڈیز اور اسٹیٹس بیش قیمت گاڑیوں اور مہنگے ہوٹلوں کی محفلوں سے بھرے پڑے ہیں ۔ چھاؤنی کے علاقوں میں جتنی تیزی سے رہایشی علاقوں میں کمرشل تعمیرات کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں میں دوسری اور تیسری منزلیں ڈالی جا رہیں اس لیے اسٹیشن کمانڈر اور ڈیریکر لینڈ کو کسی ثبوت اور گواہ کی ضرورت نہیں ہے بس وہ خود یا اپنا کوئی قابل اعتماد ملازم چھاؤنی کے گنجان ترین رہائشی علاقوں میں وزٹ کر لے سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائیگا لیکن دونوں کنٹونمنٹ بورڈز میں با اثر ملازمین کے گٹھ جوڑ کے سبب اعلی حکام کو دفتر سے نکلنے ہی نہیں دیا جاتا اور سب اچھا ہے کہ رپورٹ پیش کر دی جاتی ہے ۔ اس ضمن میں اگر کوئی بھی ذمہ دار شواہد کے ساتھ اپنا موقف دینا چاہے گا تو ادارے کی جانب سے مناسب جگہ فراہم کی جائیگی

Photos from Abad Zameen's post 24/09/2025

Sep 2025

Photos from Abad Zameen's post 23/09/2025

25-9-2025
راولپنڈی رینج روڈ پر چائنہ کٹنگ ، سٹی لیباٹری اور گورمے ایمرجنسی راستہ ختم ، ماما دیش پوائنٹ بھی مشکوک

کروڑوں کی دوکانوں سے کون کون مستفید لیکن متعدد ملازمین کے ٹھاٹھ کہانیاں سنانے لگے ، ذرائع

کوئی بھی چاہے تو موقف دے سکتا ہے کہ پلازوں کی راہداریوں میں دوکانیں کا کی ایما اور کس قانون کے تحت بنیں ، ادارہ

راولپنڈی ( ) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے رینج روڈ پر چائنہ کٹنگ کے انکشاف نے اعلیٰ افسران کیلئے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے ۔ رینج روڈ پر حال ہی میں فرید ہسپتال کی پارکنگ میں بننے والے لوہے اور تنکوں کی دیواروں کے ہوٹل کے علاؤہ سٹی لیباٹری اور گورمے بیکری والے پلازے میں ایمر جنسی راستے کیلئے بنائی گئی راہ داریوں میں پنڈی نان شاپ اور نقشبندی نان چنے کے ناموں سے دوکانیں بنا دی گئیں ہیں جبکہ نثار بیکری کے سامنے ماما فش فرائی کے نام سے بنائی گئی دوکان پرانی دوکانوں کو توڑ کر بنائی گئی ہیں ۔ یاد رہے کہ اس وقت رینج روڈ پر کمرشل زمین کی مالیت ایک کروڑ روپے مرلہ کے قریب ڈیمانڈ کی جا رہی ہے اور بنی ہوئی دوکانوں کی ڈیمانڈ دو کروڑ کی جا رہی ہے اور ان حالات میں پلازوں کی راہ داریوں کو ختم کرکے یہاں بننے والی دوکانوں سے کون کون مستفید ہو رہا ہے اس بات کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے لیکن ذرائع کے مطابق کروڑوں کی آمدنی کے سبب بے شمار ملازمین کے شاہانہ ٹھاٹھ مستفید ہونے کی داستانیں چیخ چیخ کر سنا رہے ہیں لیکن پھر بھی کوئی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا

Photos from Abad Zameen's post 23/09/2025
04/09/2025

ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دیکھانے کے اور

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ رہائشی مکان بنا کر کمرشل دوکانوں میں تبدیل کرنے کا انکشاف

کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے ، ادارہ

سارے شواہد جمع کر لیے گئے ہیں اگلے شمارے میں بلا تفریق سب شائع کر دیا جائیگا

راولپنڈی (اسٹاف رپورٹ) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے متعدد وارڈوں میں رہائشی مکانوں کے نقشے منظور کروا کر بعد میں کمرشل دوکانوں میں تبدیل کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پہلے کنٹونمنٹ بورڈ سے رہائشی مکان کا نقشہ منظور کروایا جاتا ہے اور دوران تعمیر دوکانیں بنا کر آگے دیوار کھڑی کر دی جاتی ہے اور جیسے ہی تعمیر مکمل ہوتی ہے دیوار کو گرا کر دوکانوں کے شٹر لگا دیے جاتے ہیں اور یوں متعدد وارڈوں کی گنجان گلیاں تنگ ہوتی چلی جا رہی ہیں اور اہلیان کینٹ کی مشکلات میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب کمرشل اور رہائشی نقشوں کی فیسوں میں واضح فرق ہے اور نقشہ منظور کرواتے وقت کیونکہ رہائشی فیسیں جمع کروائی جاتی ہیں اور تبدیل کمرشل میں کر دیا جاتا ہے اس لیے محکمے کو بھاری مالی خسارہ بھی پہنچایا جا رہا ہے ۔ اس ضمن میں کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق شائع کریگا ۔

04/09/2025

راولپنڈی ( اسٹاف رپورٹ) چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں تجاوزات مافیا بے قابو ہو گیا ۔ انچارج خادم ستی کی جانب سے اپنائی جانے والی سبھی حکمت عملیاں ناکام ہونے کے پیچھے ذرائع کے مطابق انکے مبینہ پوشیدہ مقاصد ہیں ۔ یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے واضع احکامات کے بعد راولپنڈی و چکلالہ کی حدود میں تجاوزات مافیا کے خلاف لاکھوں روپے مالیت کے اخراجات سے آپریشنز تو کیے گئے لیکن چند ہی دنوں کے بعد چکلالہ کی رونقیں بحال ہو گئی ہیں جسکی وجہ سے اہلیان کینٹ کی زندگیاں عذاب مسلسل میں پڑی ہوئی ہیں اور چکلالہ کے رہائشیوں نے خادم ستی کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے خلاف پریشنز کی ذمہ داریاں ٹریفک پولیس یا پیرا فورس کو دینے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ ذرائع نے یہ الزام بھی عائد کر دیا ہے کہ سینکڑوں ریڑھیوں سے اگرای کیلئے نجی ملازمین کو ساتھ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشکل وقت میں ان سے لا تعلقی کا کہ کر آپریشن کیا جا سکے جبکہ انہی ملازمین کو استعمال کرتے ہوئے چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود سے لاکھوں روپے یومیہ کی وصولیاں کی جا رہی ہیں اور بدلے میں انکو اہلیان کینٹ کا سکون برباد کرنے کیلئے کھلی چھٹی دیدی گئی ہے

Want your business to be the top-listed Furniture Store in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

M-25 Mid City Mall Rehmanabad
Rawalpindi
46000