MMAM AZIZ Official

Call Directions Contact the business

MMAM AZIZ Official Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from MMAM AZIZ Official, Mondal Ganthi Gazi Para, KOLKATA.

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ہمارے ایم ایم اے ایم عزیز آفیشیل پیج پر آپ کا خیر مقدم ہے
Mohammad Manzoor Alam Misbahi
Kaikhali Kolkata West Bengal India
700052
Mobile no 8777730210
WhatsApp 8622887787

(22) نیکی اور بدی کا انجامایک پہلوان ( جس کے خوف سے شیر بھی کانپتے تھے ) کسی کنویں میں گر گیا اورفریاد کرنے لگا لیکن کسی...
11/09/2026

(22) نیکی اور بدی کا انجام
ایک پہلوان ( جس کے خوف سے شیر بھی کانپتے تھے ) کسی کنویں میں گر گیا اور
فریاد کرنے لگا لیکن کسی نے بھی اس کو کنویں سے نہ نکالا ایک شخص وہاں سے گزرا اور ایک پتھر اس کے سر پر مارا
اور کہا کبھی تو نے بھی کسی کی مدد کی ہے جو آج لوگوں کو مدد کے لیے پکار رہا ہے؟
جو تو نے بیج بویا ہے اس کا پھل تجھے مل گیا ہے۔ آج تیرے زخم پر کوئی مرہم نہیں
رکھے گا کیونکہ بے شمار لوگ تیرے لگائے ہوئے زخموں کی وجہ سے رورہے ہیں۔ تو ہماری راہ
میں کنویں کھودتا تھا آج خود کنویں میں گر گیا ہے۔
کوئی شخص تو کنواں پیاسوں کی پیاس
بجھانے کے لیے کھلواتا ہے اور کوئی اس لیے تاکہ کوئی اس میں گر کر زندگی کا چراغ
بجھا دے۔ بدی کرنے والا نیکی کی امید نہ رکھے کیونکہ جھاؤ ( جھاڑی) سے انگور نہیں ملاکرتے۔
خزاں میں بیج بونے والا کبھی گندم نہیں کاٹے گا۔ اگر تھوڑ کا درخت جان جوکھوں میں ڈال کر لگایا جائے تو اس پر پھل نہ لگ جائے گا۔ لوگوں سے بدی کرنے والے کے
سامنے نیکی نہیں آتی ۔ لوگوں میں شر پھیلانے والا بچھو کی طرح شرہی کی طرف جاتا ہے۔
اگرتو نافع نہیں
تو پتھر اور تجھ میں کیا فرق ہے
بلکہ لو ہے اور پھر میں تو پھر بھی نفع ہے
اور جس پر پتھرکو فضیلت ہو
اس کا شرم سے مر جانا ہی بہتر ہے۔
بلکہ درندے بھی ایسے بد ذات انسان سے
بہتر ہیں کہ ان میں بھی کوئی نہ کوئی فائدہ ہے۔ جو انسان سونے اور کھانے کے سوا کچھ نہ جانے
اس کو چوپائے پر کیا فضیلت ہو سکتی ہے۔ اس بد نصیب گھوڑ سوار سے پیدل چلنے والا
سبقت لے جائے گا۔
🩵سبق🩵
انسان وہی ہے جس سے دوسروں کو فائدہ پہنچے ، جو دوسروں کی ہمدردی اور خیر
خواہی نہ کرے وہ انسانیت کے لیے عار ہے اور اس سے پتھر اور درندے بہتر ہیں۔

(21) بادشاہ کی کھوپڑیدریائے دجلہ کے کنارے ایک عبادت گزار جار ہا تھا کہ وہاں ایک کھوپڑیدیکھی جس نے زبان حال سے عبادت گزار...
10/09/2026

(21) بادشاہ کی کھوپڑی
دریائے دجلہ کے کنارے ایک عبادت گزار جار ہا تھا کہ وہاں ایک کھوپڑی
دیکھی جس نے زبان حال سے عبادت گزار کو کہا! کبھی میں بھی حکمرانی کی شان
رکھتی تھی اور
سر پر بڑائی کی ٹوپی تھی ، ملک عراق کی حکومت میرے پاس تھی، پھر میں نے شہر زماں کو فتح
کرنے کا لالچ کیا لیکن موت نے مجھے کر ماں (کیٹروں) کی خوراک بنادیا ہوش کے گان
سے غفلت کی روٹی نکال تا کہ تیرے کانوں میں نصیحت کے الفاظ داخل ہو سکیں ۔
کل پاؤں ایک کا سٹہ سر پر جو پڑ گیا ناگاہ وہ استخوان شکستہ سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر میں بھی کبھی کسی کا سر پر غرور تھا
🩵سبق🩵
لوگ موت کی یہ شکایت ناحق کرتے ہیں کہ وہ نا گہانی اچانک اور دفعہ ہمارے
پاس آجاتی ہے، حالانکہ موت سب جگہ موجود ہے ۔ وہ ہم کو سب جگہ ملتی ہے۔ ہر مقام پر ہر
بہانے موت موجود ہے۔ وہ تو ہمیشہ اپنے آنے کی خبر دیتی رہتی ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ میں
مروں گا اور مرنے کا کوئی وقت معین نہیں جس کو وہ جانتا ہو ۔ اگر یہ دونوں باتیں معلوم نہ
ہو تیں تو بے شک شکایت بجا ہوتی ۔ ہم روزانہ بلکہ ہر وقت اپنی آنکھوں سے امیر و غریب،
بچے، بوڑھے ، تندرست اور بیماروں کو مرتے دیکھتے ہیں، لیکن پھر بھی غفلت اس قدر اور
اعمال ایسے ہیں کہ گویا ہم اس کو بالکل بھول بیٹھے ہیں ۔ قدیم مشرقی بادشاہوں کا مقرر کرد:
ایک افسر ہوا کرتا تھا ، جو ہر صبح کو کسی خاص وقت ان کو موت کی یاد دلایا کرتا تھا۔ موت کے
اکثر یا در رکھنے کا نتیجہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ انسان دنیا کے کاموں کی بے جا ہوس
نہیں کرتا اور کسی
پر ظلم و تعدی اور جور و ستم کرنے سے باز رہتا ہے۔ جن بادشاہوں نے ساری دنیا کو فتح
کرنے کی آرزو کی یا جن علماء نے دنیا کے کل علوم میں کمال چاہا وہ اگر موت کو یا در رکھتے
تو یہ آرزوئے بے جانہ کرتے
فکر منزل ہوگئی ان کا گزرنا دیکھ کر
زندہ دل میں ہو گیا اوروں کا مرنا دیکھ کر
زر گنیز ( شاہ ایران ) اپنی بے شمار فوج کو دیکھ رہا تھا جبکہ وہ یونانیوں سے لڑنے
کے لیے دریائے ملی پانٹ عبور کر رہی تھی ، خوشی سے چہرہ ہشاش بشاس تھا کہ میں لاکھوں
آدمیوں پر حکمران ہوں ۔ مگر دفعہ چہرہ بدل گیا اور بے اختیار اشکبار ہو گیا۔ اس خیال سے کہ
چالیس پچاس سال کے اندراندران آدمیوں میں سے کوئی بھی نہ رہے گا۔
چرا بر نه زود زود دختر ایام که خود بخود ورق این کتاب می گردد
ایک سادھو کی منڈلی میں کسی نے کہا کہ والیے جے پور مہاراجہ امر سنگھ تو مر کر کے
بچے ہیں ۔ سادھو نے کہا، بچہ بیچ بیچ کے مرے گا ۔ آخر کب تک بچے گا۔
سے موت سے کسی کو رستگاری ہے؟ آج فلاں کی کل ہماری باری ہے

09/09/2026
⭐(33) ایک پہلوانایک پہلوان نے تنگ دست ہو کر پشت پر مٹی ڈھو کر اپنا پیٹ بھرنا شروع کر دیانہایت دل تنگ اور افسردہ رہنے لگا...
09/09/2026

⭐(33) ایک پہلوان
ایک پہلوان نے تنگ دست ہو کر پشت پر مٹی ڈھو کر اپنا پیٹ بھرنا شروع کر دیا
نہایت دل تنگ اور افسردہ رہنے لگا۔ کہ کہاں بڑے بڑے بہادروں کو پچھاڑنا اور کہاں یہ
دن ؟ لوگ شہد پیتے ، مرغ اور بکرے کھاتے اور اس بے چارے کی روٹی ساگ پات کو ترستی رہتی۔
کتے بلیوں کے جسم پہ لباس اور یہ بے چارہ ننگا ۔ حسرت سے دعا کرتا کہ ساری زندگی
کا رزق اکٹھا ہی مل جائے تو چند دن تو آسانی سے گذر جائیں۔ ایک دن زمین کھودرہا تھا کہ
ٹھوڑی کی ہڈی نظر آئی اور ساتھ موتیوں کا ٹوٹا ہوا ہار پایا جو زبان حال سے یہ کہہ رہا تھا۔
زمانے کی گردش کا گلہ نہ کر یہ تو گھومتا ہی رہتا ہے۔
پہلوان کو تھوڑی تسلی ہوئی کہ
جب انجام سب کا ایک ہی جیسا ہے
تو کیا تخت نشیں اور کیا خاک نشیں۔ غمی خوشی ختم ہو جائے گی ہاں عمل
کی جزا اور نیک نامی رہ جائے گی۔ ملک تاج تخت والے بھی چل دیے اور گدا محتاج بھی ،
دنیا سے دھو کہ نہ کھا دیکھ اگر تیرے پاس دنیا کا سونا نہیں ہے
تو سعدی کی نصیحتیں سونے کی
ڈلیوں سے کم نہیں ہیں ان بچے موتیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لے۔
🩵سبق🩵
مال دولت تخت و تاج گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے۔ خوشحالی و تنگ دستی انجام کے لحاظ
سے برابر ہے کیونکہ موت سب کو ایک جیسا بنا دے گی ۔
شاہوں کو اپنی صولت شاہی پہ ہےگھمنڈ
نعمت یہ عیش و عشرت شاہی پہ ہےگھمنڈ
جاہ و ستم پر دولت شاہی پر ہےگھمنڈ
طبل و علم پر شوکت و شاہی پہ ہےگھمنڈ
ہر شخص ان کو دیکھ کے کہتا ضرور ہے
دنیا ہے جس کا نام وہ دار الغرور ہے
فاعتبر وا یا اولی الالباب

⭐(34) بھینس کے آگے بین بجانا ؟کسی ملک پر ایک ظالم حکمران تھا ، اس نے لوگوں کے دن کے اُجالے کو رات کیتاریکی میں بدل دیا ل...
08/09/2026

⭐(34) بھینس کے آگے بین بجانا ؟
کسی ملک پر ایک ظالم حکمران تھا ، اس نے لوگوں کے دن کے اُجالے کو رات کی
تاریکی میں بدل دیا لوگوں کی نیند حرام کردی۔ دن کو اس کے ستائے ہوئے رات
کو بارگاہ الہی
میں اس کیخلاف دست بدعا ہوتے ۔ کچھ لوگ اس زمانے کے ایک بزرگ کے پاس جا کر
روئے کہ اس ظالم کو خدا کا واسطہ دو کہ اتناظلم نہ کرے بزرگ نے کہا! مجھے شرم آتی ہے کہ اس
کے سامنے اپنے پیارے خدا کا نام لوں کیونکہ ہر کوئی اللہ کے پیغام کے لائق نہیں ہے۔ جوحق
کو مانتا ہی نہ ہو اس کے سامنے حق کا نام لیا ہی نہ جائے۔ یہی حق ہے کہ حق حق والے کے
سامنے ہی کہنا چاہیے۔ ناران کے سامنے علم کے موتی بکھیر نابنجر زمین میں بیچ ضائع کرنے
کے مترادف ہے۔ جب اس پر اثر ہی نہیں ہوگا تو مجھے دشمن جان کر نقصان پہنچائے گا۔ نگینے کی
عادت موم میں جمنا ہے نہ کہ پھر میں۔ اگر ظالم مجھ سے خفا ہے تو تعجب نہیں کیونکہ وہ چور ہے
اور میں چوکیدار کوشش بھی کرتے ہیں لیکن نیکی کی گیند ہر کوئی نہیں لے جاسکتا۔
🩵سبق🩵
ظالم کے سامنے اللہ کا واسطہ پیش کرنے سے ممکن ہے وہ اللہ ہی کی تو ہین کر دے
کیونکہ اس ظالم کے مرغوب عمل ( ظلم) کو اللہ نے ناپسند فرمایا ہے لہذا ظالم اللہ سے ہی
بیزاری کا اظہار کر سکتا ہے نصیحت اس کو کی جائے جس کو فائدہ پہنچنے کی امید ہو ورنہ نصیحت بھی
برباد ہوگی اور وقت بھی ضائع ہو گا۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے۔
فذكر ان نفعت الذكرى (الاعلی) نصیحت کر اگر قائدو دے۔ حضرت
غوث اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کوئی نصیحت کرے تو اسکی نصیحت کو غور سے سنو اور قبول
کرو! آنے والے وقت میں ہو سکتا ہے کوئی نصیحت کرنے والا ہی نہر ہے الامان الحفیظ

⭐💟(32) بہار ہو کہ خزاں لا اله الا اللهایک درویش کی حق گوئی سے ناراض ہو کر بادشاہ نے متکبرانہ انداز میں اس کو جیلمیں ڈال ...
07/09/2026

⭐💟(32) بہار ہو کہ خزاں لا اله الا الله
ایک درویش کی حق گوئی سے ناراض ہو کر بادشاہ نے متکبرانہ انداز میں اس کو جیل
میں ڈال دیا۔ وزراء میں سے کسی نے درویش کو کہا بادشاہ کو بھرے دربار میں اس طرح
نصیحت کرنا مناسب نہ تھا۔ درویش نے کہا ! حق بات کہنا عبادت سمجھتا ہوں اور مجھے قیدخانے کی کوئی پرواہ نہیں
کہ یہ چند لمحوں کی بات ہے۔ بادشاہ کو درویش کی وزیر سے گفتگو کا پتہ
چلا تو اس نے پیغام بھجوایا کہ چند لمحے نہیں ساری زندگی جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔ دریش نے واپسی جواب دیا کہ
کیا تو جانتا نہیں دنیا ہے ہی ایک گھڑی ۔ درویش کے لیے خوشی اور غمی
برابر ہے الحمد لله علی کل حال تو لشکر اور خزانوں میں خوش ہے
تو میں رنج اور محرومی میں بھی
اپنے رب سے راضی ہوں۔ جب ہم دونوں کو موت آئے گی تو چند دنوں میں برابر
ہو جائیں کوئی نہ پہچان سکے گا کہ درویش کون ہے اور بادشاہ کون؟ ظالم بادشاہ کو
ان ناصحانہ باتوں سے اور غصہ آیا
اور درویش کی زبان کھینچ لینے کا حکم دیا۔ حق گو درویش نے فرمایا مجھے
اس سے بھی فرق نہیں پڑے گا کہ میرا اللہ بغیر میری زبان کے بھی جانتا ہے کہ میں کیا کہناچاہتا ہوں
میں ظلم برداشت کروں گا جو میری آخرت بہتر کر دے گا بلکہ مجھے تو خوشی ہوگی اگر
تجھے بھی مرتے وقت ایمان نصیب ہو جائے۔
🩵سبق🩵
بادشاہوں کی ناراضگی کے سبب حق گوئی کا فریضہ چھوڑ دینا اہل حق کا شیوہ نہیں ہے۔
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

⭐💟(31) مامون الرشید (بادشاہ) اور پری پیکر (کنیز )مامون الرشید (بنو عباس کا مشہور خلیفہ ) نے ایک چاند سے چہرے، شاخ گلاب ک...
06/09/2026

⭐💟(31) مامون الرشید (بادشاہ) اور پری پیکر (کنیز )
مامون الرشید (بنو عباس کا مشہور خلیفہ ) نے ایک چاند سے چہرے، شاخ گلاب کے بدن
عقلمندوں کی عقل کو حیران کر دینے والی لونڈی خریدی اور جب اس کے قریب ہوا تو
اس نے نفرت کی اور اپنے آپ کو بادشاہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ پہلے تو غصے کی
وجہ سے بادشاہ نے چاہا کہ اس کو تلوار سے دو ٹکڑے کر دوں پھر سنبھل گیا
اور اس نفرت کا سبب پوچھا!
کنیز نے کہا! تو میرے ٹکڑے کر یا زندہ رکھ میں تیرے ساتھ نہیں بیٹھ سکتی
کیونکہ تلوارسے تو ایک ہی بار مر جاؤں کی
عمر بھر تیرے منہ کی بد بو مجھے ہرلمحہ موت سے بڑھ کر تکلیف دےگی۔
بادشاہ کی آنکھیں کھل گئیں اور اس رنجیدگی کے باوجود اپنا علاج شروع کر دیا اور بد بوخوشبو میں تبدیل ہو گئی
اور بادشاہ پہلے سے زیادہ اس کو چاہنے لگا کہ اس نے میرے عیب پرمجھے اطلاع دی ہے۔
تیرا دوست وہ ہے کہ جو تجھے بتائے کہ تیری راہ میں فلاں جگہ کا نا ہے۔
گمراہ کو کہنا کہ تو ٹھیک چل رہا ہے بہت بڑا ظلم ہے۔ اگر تیرا عیب بیان نہ کیا جائے گا تو توجہالت کی وجہ سے
اس کو کمال سمجھتا رہے گا ۔ سقمونیا ( کڑوی دوائی ) جس کو فائدہ دے رہی
ہو اس کے سامنے شہد اور شکر کے فضائل مت بیان کر کہ اسکی شفا کڑوے دارو میں ہے ہاں
معرفت کی چھلنی میں چھان لے اور عبادت کا شہد ملالے۔
❤️سبق❤️
کبھی خوش طبع شیر یں مزاج دوستوں سے بد مزاج شخص بہتر تنبیہ کرتا ہے اگر عقل
مند ہے تو غصے میں آنے کی بجائے ہمت سے کام لے گا اور اپنی اصلاح کرنے کی کوشش
کرے گا اہل عرب کہتے ہیں العاقل تكفيه الاشارة . یعنی عقلمند کو اشارہ ہی کافی ہے کم عقل اور بے وقوف کو
کتابوں کا بوجھ بھی فائدہ نہیں دے سکتا۔

23/08/2026



Mufti Salman Azhari

08/08/2026
ایک دفعہ میں اپنے استاد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا،میں نے سوال کیا:حضرت قران کہتا ہے:”بے شک نماز بْرے اور بے حیائی کے کام...
07/08/2025

ایک دفعہ میں اپنے استاد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا،میں نے سوال کیا:حضرت قران کہتا ہے:”بے شک نماز بْرے اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔(سورہ عنکبوت آیت 45)
لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں اور سود بھی کھاتے ہیں،جھوٹ بھی بولتے ہیں، بے حیائی کے کام بھی کرتے ہیں۔ہم خود بھی نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں سے مکمل طور پر کنارہ کش نہیں ہو پاتے۔تو اِس آیت کا کیا مطلب ہوا؟
فرمانے لگے:
بیٹا۔قران کی آیت پر نہیں اپنی نمازوں پر شک کرو۔ کہ ان نمازوں میں ایسی کون سی کمی ہےجو تمہیں گناہوں سے نہیں روک پا رہیں۔ صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نےکبھی یہ سوال نہیں کیا،کیونکہ انکی نمازیں واقعی نمازیں تھیں۔اب بھلا سوچو اگر ایک شخص کو دن میں پانچ بار عدالت میں جج کا سامنا کرنا ہو تو کیا وہ جرم کرنے کا سوچے گا بھی؟جرم تو وہ کرتا ہے جو سمجھتا ہے کہ عدالت سے بچ جائیگا۔یہ جواب سن کر مجھے وہ حدیث یاد آگئی کہ بہت سے نمازیوں کی نمازیں انکے منہ پر مار دی جائینگی۔

یا اللہ ہمیں اصلی اور سچی نمازیں پڑھنے اور اس پر پابند ہونے اور رہنے کی توفیق عطا فرما دے۔

اگر آپ اسلامی واقعات اور دل کو چُھو لینے والی کہانیاں پڑھنے کے شوقین ہیں تو میری پروفائل وزٹ کریں. Follow کا بٹن پریس کریں اور see first کریں.آپ کو میری پوسٹس ملتی رہیں گی.

Address

Mondal Ganthi Gazi Para
Kolkata
700052

Telephone

+18777730210

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MMAM AZIZ Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MMAM AZIZ Official:

Shortcuts

Share