11/09/2026
(22) نیکی اور بدی کا انجام
ایک پہلوان ( جس کے خوف سے شیر بھی کانپتے تھے ) کسی کنویں میں گر گیا اور
فریاد کرنے لگا لیکن کسی نے بھی اس کو کنویں سے نہ نکالا ایک شخص وہاں سے گزرا اور ایک پتھر اس کے سر پر مارا
اور کہا کبھی تو نے بھی کسی کی مدد کی ہے جو آج لوگوں کو مدد کے لیے پکار رہا ہے؟
جو تو نے بیج بویا ہے اس کا پھل تجھے مل گیا ہے۔ آج تیرے زخم پر کوئی مرہم نہیں
رکھے گا کیونکہ بے شمار لوگ تیرے لگائے ہوئے زخموں کی وجہ سے رورہے ہیں۔ تو ہماری راہ
میں کنویں کھودتا تھا آج خود کنویں میں گر گیا ہے۔
کوئی شخص تو کنواں پیاسوں کی پیاس
بجھانے کے لیے کھلواتا ہے اور کوئی اس لیے تاکہ کوئی اس میں گر کر زندگی کا چراغ
بجھا دے۔ بدی کرنے والا نیکی کی امید نہ رکھے کیونکہ جھاؤ ( جھاڑی) سے انگور نہیں ملاکرتے۔
خزاں میں بیج بونے والا کبھی گندم نہیں کاٹے گا۔ اگر تھوڑ کا درخت جان جوکھوں میں ڈال کر لگایا جائے تو اس پر پھل نہ لگ جائے گا۔ لوگوں سے بدی کرنے والے کے
سامنے نیکی نہیں آتی ۔ لوگوں میں شر پھیلانے والا بچھو کی طرح شرہی کی طرف جاتا ہے۔
اگرتو نافع نہیں
تو پتھر اور تجھ میں کیا فرق ہے
بلکہ لو ہے اور پھر میں تو پھر بھی نفع ہے
اور جس پر پتھرکو فضیلت ہو
اس کا شرم سے مر جانا ہی بہتر ہے۔
بلکہ درندے بھی ایسے بد ذات انسان سے
بہتر ہیں کہ ان میں بھی کوئی نہ کوئی فائدہ ہے۔ جو انسان سونے اور کھانے کے سوا کچھ نہ جانے
اس کو چوپائے پر کیا فضیلت ہو سکتی ہے۔ اس بد نصیب گھوڑ سوار سے پیدل چلنے والا
سبقت لے جائے گا۔
🩵سبق🩵
انسان وہی ہے جس سے دوسروں کو فائدہ پہنچے ، جو دوسروں کی ہمدردی اور خیر
خواہی نہ کرے وہ انسانیت کے لیے عار ہے اور اس سے پتھر اور درندے بہتر ہیں۔