31/03/2023
Meeting with newly appointed Agriculture Officers under ICT Project in District Buner. They were formally welcomed and briefed about departmental activities during the current year. Also handed over posting orders in District Buner.
04/12/2022
Arranged one day TOT of Agriculture Extention Field Staff at MFSC Daggar District Buner on Ist December 2022, where in major Crops like Wheat, Vegetables and Canola in current Rabi 2022 - 23 were discussed in detail for enhancing the capacity of them.
27/10/2022
Mr. Mohammad Aftab, our beloved friend and CEO of Mercury Seed Company visited office of District Director Agriculture Extension and met with Dr. Adalat Khan in his office. Discussed different aspects of Agriculture Development in District Buner.
28/05/2020
زمیندار حضرات سے التماس ہے کہ اپنے علاقوں میں ٹڈی دل کی موجودگی پر کڑی نظر رکھیں اور نظر آنے کی صورت میں محکمہ زراعت توسیع خیبر پختونخوا کے عملہ کو اطلاع دیں یا محکمہ زراعت توسیع خیبر پختونخوا کے کال سنٹر نمبر 03481117070 پر رابطہ کریں۔
27/05/2020
Fruit Fly Control | Phal ki Makki
Agriculture Expert, A team of Agri Experts who creates a very easy motion videos to identify agriculture diseases crop problems and aware farmer regarding te...
26/05/2020
زمین کا تجزیہ کروانے کے لئے مٹی کا نمونہ یا سیمپل کیسے حاصل کرنا ہے؟
زرعی سائنس دان سابق ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ) جناب ڈاکٹر عبدالرشید کے ایک محطاط اندازے کے مطابق اگر وطن عزیز کے کاشتکار اپنی زمینوں کا ٹیسٹ کروا کر کھاد ڈالیں تو اس سے پاکستان میں کھیتی باڑی کرنے والے ہرکاشتکار کو کم از کم 6 ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ کے حساب سے بچت و منافع ہو سکتا ہے
اب بات کرتے ہیں کہ آپ نے ٹیسٹ کروانے کے لئے اپنے رقبے سے مٹی کا سیمپل یا نمونہ کیسے حاصل کرنا ہے؟
یاد رکھیں کہ کھیت سے مٹی کا نمونہ حاصل کرنا، تکے سے کرنے والا کام نہیں ہے. نمونہ حاصل کرنے کے لئے لازم ہے کہ آپ لیبارٹری کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق نمونہ حاصل کریں. اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ٹیسٹ کے نتائج میں فرق آ جائے گا. نتیجتاََ ٹیسٹ کروانا یا نہ کروانا برابر ہو جائے گا اور آپ کی ساری محنت اور پیسہ جو آپ نے اس کام پر صرف کیا ہے ضائع ہو جائے گی.
لہذا ضروری ہے کہ نمونہ انتہائی احتیاط اور سمجھداری سے حاصل کیا جائے.
آئیے آپ کومٹی کا نمونہ حاصل کرنے کا طریقہ بتاتے ہیں.
نمونہ حاصل کرنے سے پہلے یہ بات تو آپ جانتے ہی ہوتے ہیں کہ جس کھیت سے مٹی کا نمونہ حاصل کیا جا رہا ہے وہاں آپ نے کوئی فصل کاشت کرنی ہے یا کوئی باغ وغیرہ لگانا ہے. یہ بات ذہن میں رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ فصل کاشت کرنے کے لئے اور باغ لگانے کے لئے نمونہ حاصل کرنے کا طریقہ الگ الگ ہے.
اگر کھیت میں فصل کاشت کرنی ہے تو مٹی کا نمونہ کیسے حاصل کرنا ہے؟
یاد رکھیں کہ ایک ایکڑ سے آپ نے پانچ الگ الگ جگہوں سے مٹی حاصل کر کے اسے مکس کرنا ہے. ایکڑ کی کس کس جگہ سے مٹی حاصل کرنی ہے نیچے دی گئی تصویر میں ان جگہوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے.
پہلا مرحلہ
اب آپ نے کھیت میں جگہ نمبر 1 سے صفر تا 6 انچ کی گہرائی سے جتنی بھی مٹی نکلے اسے حاصل کر لینا ہے. اسی طرح آپ نے جگہ نمبر 2، 3، 4 اور 5 سے بالکل پہلے کی طرح صفر تا 6 انچ کی گہرائی سے مٹی نکال کر جمع کر لینی ہے. پانچوں جگہوں سے حاصل شدہ تمام مٹی کو اکٹھا کر کے ہاتھوں سے اس طرح مکس کریں کہ مٹی یک جان ہو جائے. اب اس یک جان مٹی سے آدھا کلو مٹی الگ کر کے کسی شاپر یا تھیلی میں ڈال لیں.
لیجئے آپ کا پہلے ایکڑ کا صفر تا 6 انچ تک کی گہرائی کا پہلا سیمپل یا نمونہ تیار ہے. شاپر پر نمونے کی گہرائی، اپنا نام اور کلہ نمبر لکھنا نہ بھولیں.
پہلے مرحلے کو پوری طرح سمجھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر دیکھئے.
دوسرا مرحلہ
دوسرے مرحلے میں آپ کھیت کی جگہ نمبر 1 سے، 6 انچ سے لیکر 12 انچ تک گہرائی تک مٹی کھودیں اور جتنی بھی مٹی نکلے اسے اکٹھا کر لیں.بالکل اسی طرح جگہ نمبر 2، 3، 4 اور 5 سے 6 انچ سے 12 انچ کی گہرائی تک مٹی حاصل کریں اور ساری مٹی کو مکس کر کے یک جان کر لیں. اب اس یک جان مٹی سے آدھا کلو مٹی الگ کر کے شاپر یا تھیلی وغیرہ میں ڈال لیں. لیجئے آپ کا پہلے ایکڑ کا 6 تا 12 انچ تک کی گہرائی کا دوسرا سیمپل یا نمونہ تیار ہے.
ایک بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ 6 سے 12 انچ کی گہرائی سے مٹی حاصل کرتے وقت اوپر 6 انچ جگہ والی مٹی نیچے مکس نہ ہونے پائے. وضاحت کے لئے تصویر دیکھئے.
شاپر یا تھیلی پر نمونے کی گہرائی، اپنا نام اور کلے یا ایکڑ کا نمبر ضرور لکھیں تا کہ پہچان رہے.
اسی طرح آپ ہر ایکڑ سے دو دو نمونے حاصل کرتے چلے جائیں گے. اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ہر ایکڑ سے دو نمونے حاصل کریں گے. پہلا صفر تا 6 انچ کی گہرائی والا اور دوسرا 6 تا 12 انچ گہرائی والا.
لیکن اگر آپ کا رقبہ ایک ہی ایکڑ کے اندر آپ کو مختلف نظر آ رہا تو پھر آپ ایک ایکڑ سے زیادہ نمونے بھی لے سکتے ہیں.
اگر کھیت میں باغ لگانا ہے تو مٹی کا نمونہ کیسے حاصل کرنا ہے؟
اگر کھیت میں باغ لگانا ہے تو پھر آپ کو صفر سے 5 فٹ گہرائی تک مٹی کے نمونے حاصل کرنے ہیں. باغ کی جڑیں زیادہ گہرائی میں جانی ہوتی ہیں اس لئے کم از کم 5 فٹ گہرائی تک مٹی کی جانکاری ہونا ضروری ہے . یہ تو آپ جان چکے ہیں کہ کہ فصل لگنے والے کھیت سے ہم پانچ مختلف جگہوں سے مٹی حاصل کرتے ہیں لیکن باغ لگنے والے کھیت میں ایسا نہیں ہے. باغ لگنے والے کھیت میں صرف ایک جگہ سے ہی مٹی حاصل کرنا کافی ہوتا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ 12 انچ گہرائی کے نیچے کھیت کی زرخیزی زیادہ تر ایک جیسی ہی ہوتی ہے جبکہ 12 انچ سے اوپر اوپر کھیت کی زرخیزی مختلف جگہوں پر مختلف ہو سکتی ہے. اس لئے ہم فصل والے کھیت میں پانچ مختلف جگہوں جبکہ باغ والے کھیت سے صرف ایک جگہ سے مٹی حاصل کرنے کو کافی سمجھتے ہیں.
باغ لگنے والے کھیت سے مٹی حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کھیت کے درمیان میں سے کوئی مناسب جگہ منتخب کر لیں.
منتخب کی گئی جگہ پر سب سے پہلے صفر تا 6 انچ کی گہرائی تک ساری مٹی نکال لیں. اس مٹی کو مکس کر کے پہلا نمونہ بنا لیں.
اس کے بعد 6 سے 12 انچ گہرائی تک مٹی حاصل کر لیں، اس مٹی کو اچھی طرح مکس کر کے آدھا کلو مٹی مٹی نکال کر سنبھال لیں. یہ آپ کا دوسرا نمونہ ہے.
اب آپ 12 سے 24 انچ تک گہرائی سے تیسرا نمونہ حاصل کریں.
اس کے بعد 24سے 36انچ تک چوتھا، 36 سے 48 انچ تک پانچواں اور آخر میں 48 سے 60 انچ تک چھٹا نمونہ حاصل کر لیں. اس طرح آپ نے ایک ہی ایکڑ کی ایک ہی جگہ سے چھ نمونے حاصل کر لئے. ان نمونوں پر ان کا کلہ نمبر اور گہرائی لازمی درج کریں. اس کا مطلب یہ ہوا کہ باغ لگانے والے ایک ایکڑ سے آپ 6 نمونے لیبارٹری بھجوائیں گے. اسی طرح آپ دیگر ایکڑوں سے نمونے حاصل کر سکتے ہیں.
نمونہ حاصل کرتے وقت جن چند باتوں کی خیال رکھناازحد ضروری ہے وہ یہاں درج کی جا رہی ہیں.
1. درخت کے نیچے والی زمین سے مٹی کا سیمپل یا نمونہ حاصل نہیں کرنا.
2. پانی والے کھال کے قریب سے بھی سیمپل نہیں لینا.
3. کھیت کے بنے کے قریب سے بھی سیمپل یا نمونہ حاصل نہیں کرنا چاہئیے.
4. اگر کسی جگہ جانورکا گوبر وغیرہ گرا پڑا ہو تو وہاں سے بھی نمونہ مت لیں.
5. واضح رہے کہ مٹی کا نمونہ لیبارٹری بھیجنے سے پہلے اچھی طرح خشک کر لیں. اور نمونے والی مٹی کو دھوپ میں نہیں بلکہ سایہ دار جگہ پر خشک کریں. نمدار یا وتر والی مٹی لیبارٹری بھیجنے سے نتائج میں فرق آ سکتا ہے.
نمونہ کس آلے سے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
ویسے تو کھیت سے مٹی کا نمونہ حاصل کرنے کے لئے ایک خاص قسم کا آلہ استعمال ہوتا ہے جسے آگر کہتے ہیں. آپ نے دیکھا ہو گا کہ نلکے یا پمپ کا بور کرنے والوں کے پاس ایک خاص قسم کا آلہ ہوتا ہے جس کے ایک سرے پر کھدائی کرنے والا گول سا گدالا لگا ہوتا ہے. اس گدالے کو جب ہاتھوں کی مدد سے زمین پر مارتے ہیں تو اس میں مٹی پھنس جاتی ہے جسے زمین سے باہر نکال کر جھاڑ لیا جاتا ہے. بور کرنے والے پہلے آٹھ دس فٹ تک بور اسی سے کرتے ہیں. یہ آگر بالکل اس سے ملتی جلتی چیز ہے.
آپ چاہیں تو آگر خود بھی خرید سکتے ہیں یا بنوا سکتے ہیں. لیکن اگر آگر کا بندوبست نہ ہو سکے تو اوپر بیان کئے گئے بور کرنے والے آلے سے بھی نمونے حاصل کئے جا سکتے ہیں. اس کے علاوہ آپ چوہے رنبے کا ستعمال بھی کر سکتے ہیں.
ٹیوب ویل سے پانی کا نمونہ یا سیمپل حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
اگر ٹیوب ویل بند ہو تو چلانے کے فوراََ بعد نمونے کے لئے پانی حاصل نہ کریں بلکہ ٹیوب ویل کو کم از کم آدھا گھنٹہ چلنےدیں. آدھے گھنٹے کے بعد صاف بوتل میں پانی بھر لیں.
پانی کی بوتل ٹیوب ویل کی دھار سے لگا کر براہ راست بھریں.
ٹیوب ویل کی ہودی میں کھڑے پانی سے نمونے کے لئے پانی حاصل نہ کریں.
لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لئے پانی بھیجنا ہو توکم از کم آدھا لیٹر پانی ہونا چاہئیے.
امید ہے کہ آپ نے مٹی اور پانی کا نمونہ حاصل کرنے کا طریقہ جان لیا ہو گا. کوئی بھی فصل یا باغ لگانے سے پہلے اپنی زمین کا ٹیسٹ لازمی کروائیں.
اسی طرح اگر آُ نے ٹیوب ویل لگوایا ہوا ہے تو اس کا پانی ٹیسٹ کروالیں تاکہ آپ یہ بات جان لیں کہ ٹیوب ویل کا یہ پانی آپ کی زمین کے لئے کس حد تک نقصان دہ ہے.
تکنیکی معاونت
1. ڈاکٹر سمرین صدیق، ایگری کلچر کیمسٹ، سائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹری، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، فیصل آباد
2. حافظ ابو بکر امین ، ایگری کلچر آفیسر، سائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹری، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، فیصل آباد
3. فاروق احمد، لیب اٹنڈنٹ، سائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹری، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، فیصل آباد
تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد
تشہیر کنندہ العمران ایگری کلچر کنسلٹنسی