21/04/2026
کچھ دیر پہلے میں نے ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ کا ٹریلر دیکھا، جس میں فلم اسٹار میرا اپنی نئی فلم “سائیکو” کی پروموشن کے لیے آئی تھیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ میزبان کی طرف سے کیے گئے تقریباً 90 فیصد سوالات میرا کی ماضی میں وائرل ہونے والی نازیبا ویڈیو سے متعلق تھے۔
دوسری طرف میرا بار بار کوشش کرتی رہیں کہ بات فلم کی پروموشن کی طرف آئے، مگر میزبان کو صرف ان کی ذاتی زندگی اور متنازع باتوں میں ہی دلچسپی تھی۔ آخرکار تنگ آ کر ٹریلر کے اختتام پر میرا مسکراتے ہوئے انٹرویو ادھورا چھوڑ کر سلام کر کے اٹھ گئیں۔
یعنی اگر ایک ہی فریم میں میرا اور ارشاد بھٹی موجود ہوں، اور میرا—جو کہ ڈرامہ کوئین کہلاتی ہیں اور کئی تنازعات کا حصہ بھی رہ چکی ہیں—اس کے باوجود مہذب نظر آئیں، تو پھر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سامنے والا شخص کس حد تک غیر مناسب رویہ اختیار کیے ہوئے تھا۔
31/01/2026
گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ گنگچھے کے مشہ بروم ، تحصیل ہیڈکوارٹر تھگس تھولدی میں ایک واقعہ پیش آیا جس نے انسانی ہمت، جرات اور ایثار کی ایک لازوال مثال قائم کر دی۔ شدید برفانی موسم میں، جب درجہ حرارت منفی 18 ڈگری تک گر چکا تھا اور دریا کی یخ بستہ موجیں بے رحمی سے بہہ رہی تھیں، ایک معصوم بچی پل سے پھسل کر دریا میں جا گری۔
خوف اور بے بسی کے لمحے میں، گاؤں کی ایک بہادر بیٹی فرشتۂ رحمت بن کر سامنے آئی۔ نہ سردی نے اسے روکا، نہ خطرے نے۔ بے خوف ہو کر اس نے تیز اور یخ بستہ بہاؤ والے دریا میں چھلانگ لگائی اور پندرہ سے بیس منٹ تک موت سے آنکھیں ملا کر جدوجہد کی۔ آخرکار اللہ کے فضل سے اس معصوم بچی کو زندہ سلامت بچا لیا گیا۔
یہ صرف ایک جان بچانے کی داستان نہیں، بلکہ انسانیت، حوصلے اور کردار کی روشن مثال ہے۔ ہم اس بہادر بیٹی کو سلام پیش کرتے ہیں اور والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایسی نڈر اور باکردار اولاد کی تربیت کی۔
صل ہیرو وہی ہیں جو مشکل گھڑی میں خاموشی سے دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگاتے ہیں۔
۔
۔
07/01/2024
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایمانداری کا جو سٹینڈرڈ سیٹ کیا اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جس پہ سختی سے عمل کروایا اسی ایمانداری کی بنیاد پہ سارے معاشرے ترقی کر رہے ہیں۔
حدیث کا مفہوم
عادل حکمران غیر مسلم بھی ہو تو اطاعت فرض ہے۔
يہ خاتُون سويڈن شہری ہے اسکا نام ايلوا جانسن ہے اور يہ اپنے دفتر سے چھُٹی کرنے کے بعد گھر جانے کے لئے ريل گاڑی کے انتظار ميں اپنے ہاتھ ميں شام کا کھانا لئے بيٹھی ہوئی ہے۰يہ ايک امير کافر مُلک کی وزير برائے محنت و افرادی قوت ہے۰اس کے مُلک کا دُنيا کے ترقی يافتہ مُلکوں ميں شُمار ہوتا ہے ليکن اس کےساتھ نہ تو غُنڈوں کی فوج ہے نہ ہٹو بچو کا شور مچاتی سائرن بجاتی گاڑياں ہيں اور نہ ہی عوام کے پيسوں سے اسے شاہی دسترخوان دستياب ہے۰شام کے کھانے ميں اپنے پيسوں سے ايک برگر لئے گھر جارہی ہے۰کيونکہ ان کے مُلک ميں عوام جاہل نہيں ہيں جو کسی بدعنوان کو مسندِ اقتدار پر بٹھائيں اور نہ ہی وہاں جہالت کا راج ہے۰اقوامِ عالم ميں قوموں نے اسی طرح ترقی کی ہے۰اُنھوں نے نہيں جن کا معقولہ ہو کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے يا بھکاری کے پاس انتخاب کا حق نہيں ہوتا۰
20/11/2023
ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا-
ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے.
وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ
"جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا"
اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟
غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟
غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے...؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے.
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی.
اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا.
سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا " اتنی دیر لگا دی...؟
غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟
غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں.....
سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا,دوسری کیا تھی...؟
غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے.....
سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں,تیسری کیا تھی....؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے....
سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی....؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری,آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے....
سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے....
رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی.....
جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟
اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے....
اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ باعث نجات بھی ہے اللہ پاک ہم سب کو صدقہ کرنے اور اپنی زندگی کو عین اسلام کے مطابق بسر کرنے کی اور جو ہم سے گناہ ہو گئے ہیں ان کی معافی مانگنے کی توفیق دے -
(ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰)