INSAF News

Call Directions Website Contact the business

INSAF News news daily . Pakistan.UAE.USA.News UK.news of the day to day Each piece is unique.

Its a furniture store.Our exquisite and luxurious Pakistani designed furniture characteristic simplicity, modernity and style.

21/10/2026

ترکیہ، پاکستان، قطر اور انڈونیشیا نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں صنعتی شعبے میں تعاون کے لیے "بدر معاہدے" پر دستخط کر دیے ہیں۔ ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق معاہدے کا مقصد دفاعی پیداوار کے شعبے میں مشترکہ کوششوں کا فروغ اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔

19/10/2026

طب کی تاریخ کا انوکھا واقعہ،آنکھ کے اوپر دانت نکل آئے

کیا آپ یقین کریں گے اگر میں کہوں کہ اب ہوا سے پانی حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے؟ جی ہاں، یہ کوئی جادو نہیں بلکہ سائنس کا ایک...
17/10/2026

کیا آپ یقین کریں گے اگر میں کہوں کہ اب ہوا سے پانی حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے؟ جی ہاں، یہ کوئی جادو نہیں بلکہ سائنس کا ایک ایسا کمال ہے جو لاکھوں لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔
نوبل انعام یافتہ کیمسٹ ڈاکٹر عمر یاغی نے ایک ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے جو دنیا کے خشک ترین علاقوں میں بھی ہوا سے صاف پینے کا پانی بنا سکتی ہے۔ ان کی کمپنی 'Atoco' نے ایک ایسا سسٹم تیار کیا ہے جو روزانہ ایک ہزار لیٹر تک پانی پیدا کر سکتا ہے۔ سائز میں یہ ایک عام شپنگ کنٹینر جتنا ہے، لیکن اس کے کارنامے بے مثال ہیں۔ سوچیے، جہاں قحط پڑا ہو یا قدرتی آفات کی وجہ سے پانی کی سپلائی تباہ ہو چکی ہو، یہ مشین وہاں کے لوگوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں۔
اس کا راز 'MOFs' نامی ایک خاص مائیکروسکوپک میٹریل میں چھپا ہے۔ یہ بالکل اسفنج کی طرح کام کرتے ہیں اور ہوا میں موجود نمی کے ذرات کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں، چاہے ہوا کتنی ہی خشک کیوں نہ ہو۔ پھر سورج کی ہلکی گرمی یا عام حرارت استعمال کر کے اس نمی کو پانی میں تبدیل کر لیا جاتا ہے۔ عام ایئر کنڈیشنرز میں بھی نمی پانی بنتی ہے، لیکن یہ سسٹم خاص طور پر ہوا سے پانی نکالنے کے لیے ہی بنایا گیا ہے اور اسے نہروں، کنوؤں یا واٹر پائپ لائنز کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔
اس ایجاد کے پیچھے ڈاکٹر عمر یاغی کی ایک بہت ہی جذباتی کہانی ہے۔ وہ اردن میں ایک مہاجر خاندان میں پیدا ہوئے اور بچپن میں انہوں نے پانی کی شدید قلت اور بغیر پانی کے جینے کا درد خود محسوس کیا۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنی زندگی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وقف کر دی، جس پر انہیں 2025 کا نوبل انعام برائے کیمسٹری بھی ملا۔
البتہ، مشین کی اصل پیداوار موسم اور حرارت پر منحصر ہے اور اسے ہر جگہ لگانا ابھی ایک چیلنج ہے۔ لیکن اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ہو گئی، تو دور دراز کے علاقوں اور پانی سے محروم کمیونٹیز کے لیے ہوا میں موجود نمی ہی زندگی کا سبب بن جائے گی۔ واقعی، سائنس نے ایک اور بار ثابت کر دیا کہ ناممکن کچھ بھی نہیں

16/10/2026

پیٹرول 3 روپے 93 پیسے فی لیٹر سستا، نوٹی فکیشن

16/10/2026

ترکی کے شہر استنبول کے قریب آیازاغا میں شدید بارشوں سے سیلابی صورتِ حال پیدا ہوگئی۔ حکام کے مطابق یہ گزشتہ کم از کم 80 سال کی شدید ترین بارشیں ہیں، جن کے نتیجے میں کئی افراد جان سے گئے۔

15/10/2026

پشاور: دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گر گئی، 28 بچے جاں بحق ، عمریں 7 سے 13 سال ہیں

شادی کے بعد میاں بیوی ہنی مون پر نکلے اور پھر پانچ سال تک واپس نہ آئے۔۔ پچاس ملک گھوم ڈالے! وہ بھی اتنے کم پیسوں میں کہ ...
14/10/2026

شادی کے بعد میاں بیوی ہنی مون پر نکلے اور پھر پانچ سال تک واپس نہ آئے۔۔ پچاس ملک گھوم ڈالے! وہ بھی اتنے کم پیسوں میں کہ آدمی حیران رہ جائے! :)

امریکہ کے شہر نیویارک میں ایک میاں بیوی، مائیک اور این ہاورڈ، رہتے تھے۔ دونوں اچھی ملازمتیں کرتے تھے، اپنا گھر خرید چکے تھے اور زندگی بڑے آرام سے گزر رہی تھی۔ 2011 میں شادی ہوئی تو ہنی مون کا پروگرام بنانے بیٹھے۔ عام لوگ شادی کے بعد ایک دو ہفتے گھوم پھر کر واپس آجاتے ہیں، لیکن ان دونوں کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔

کہنے لگے کہ ساری زندگی نوکریاں کرتے رہیں گے تو دنیا کب دیکھیں گے؟ ریٹائرمنٹ تک انتظار کیا تو کیا پتا اس وقت گھٹنوں میں درد ہو، کمر جواب دے جائے یا سفر کرنے کی ہمت ہی باقی نہ رہے! :)

یہ دونوں کوئی خالی جیب گھر سے نہیں نکلے تھے۔ نیویارک میں تقریباً دس سال ملازمتیں کرکے بچت جمع کی تھی۔ اپنا گھر تھا، اسے کرائے پر دے دیا۔ غیر ضروری سامان فروخت کردیا، دونوں نے ملازمتوں سے استعفیٰ دے دیا اور نکل پڑے دنیا دیکھنے۔۔۔۔

شروع میں ارادہ تھا کہ صرف پانچ سو دن دنیا گھومیں گے اور واپس آجایئں گے۔۔۔

یہ دونوں عام سیاحوں کی طرح ہر دوسرے دن نیا شہر دیکھنے اور مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرنے کے قائل نہیں تھے۔ ان کا طریقہ کچھ اور تھا۔

کسی نئے شہر میں پہنچتے تو پہلے ایک دو رات کے لیے کمرہ لے لیتے۔ پھر خود گلیوں میں گھوم کر چھوٹے گیسٹ ہاؤس تلاش کرتے۔ ان کا تجربہ تھا کہ بعض مقامی رہائش گاہیں ان بڑے ہوٹلوں سے کہیں سستی ہوتی ہیں جو انٹرنیٹ پر خوب اشتہار دیتے ہیں۔

کھانے کے معاملے میں بھی بڑے ریستورانوں کے بجائے مقامی بازاروں، چھوٹے کھانے پینے کے مراکز اور سڑک کنارے کھانے کی جگہوں کو ترجیح دیتے۔ جہاں عام لوگ کھاتے تھے، وہیں یہ بھی کھا لیتے۔ اس طرح پیسے بھی بچتے اور مقامی کھانے اور ثقافت کو سمجھنے کا موقع بھی ملتا۔

ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لیے جہاں ممکن ہوتا ہوائی جہاز کے بجائے بس یا ٹرین استعمال کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بس میں سفر کرنے سے راستے کے گاؤں، کھیت، پہاڑ اور عام لوگوں کی زندگی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

اور سب سے اہم بات، یہ لوگ جلدی میں نہیں ہوتے تھے۔
کسی جگہ پہنچ کر ایک ہفتہ یا اس سے زیادہ ٹھہر جاتے۔ مقامی لوگوں سے ملتے، بازاروں میں گھومتے اور آہستہ آہستہ اس جگہ کو سمجھتے۔ اس سے بار بار سفر کرنے کے اخراجات بھی کم ہوجاتے۔

کبھی کسی گھر کے مالک کی غیر موجودگی میں اس کے گھر اور پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کرتے اور بدلے میں مفت رہائش مل جاتی۔ کبھی سفری تحریروں اور تصاویر کے بدلے رہائش یا دوسری سہولتیں حاصل ہوجاتیں۔

شروع میں ان کا بجٹ تقریباً 39 امریکی ڈالر فی کس روزانہ تھا، جس میں کھانا، رہائش، آمدورفت اور سیاحتی سرگرمیاں شامل تھیں۔ بعد میں انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ان کا اوسط یومیہ خرچ تقریباً 12 ڈالر 20 سینٹ فی کس تک آگیا تھا۔

یعنی دونوں کا ملا کر تقریباً ساڑھے چوبیس ڈالر روزانہ!

اب سوال یہ ہے کہ اتنے پیسوں میں کھانا، رہائش اور سفر کیسے ممکن تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ملک میں اخراجات ایک جیسے نہیں تھے۔ مثال کے طور پر ان کے اپنے بیان کے مطابق جاپان اور آسٹریلیا جیسے مہنگے ملکوں میں ایک شخص کا یومیہ خرچ تقریباً 60 ڈالر تک پہنچ جاتا تھا، جبکہ نیپال اور لاؤس جیسے نسبتاً سستے ملکوں میں تقریباً 15 ڈالر میں بھی گزارا ہوجاتا تھا۔

یہ 2013 کے آس پاس کے ان کے بتائے ہوئے اخراجات ہیں، آج کے نہیں۔ اس کے علاوہ بعض جگہوں پر انہیں مفت یا رعایتی رہائش بھی ملتی تھی۔ اس لیے یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ دنیا کے ہر ملک میں صرف بارہ ڈالر میں تمام اخراجات پورے ہوسکتے ہیں۔

لیکن ان کا اصل کمال یہی تھا کہ جہاں خرچ کم ہوسکتا تھا، وہاں کم کرتے، تاکہ کسی خاص جگہ کے تجربے پر زیادہ پیسے خرچ کرسکیں۔

جنوبی امریکہ میں پیٹاگونیا کے پہاڑ دیکھے، افریقہ میں جنگلی حیات کے سفاری سفر کیے، ایشیا میں تھائی لینڈ، نیپال، جاپان اور دوسرے ملکوں کی ثقافت دیکھی۔ نیوزی لینڈ کے خوبصورت پہاڑوں اور جھیلوں تک پہنچے۔ یورپ کے تاریخی شہروں میں بھی گھومے۔

ایک وقت آیا کہ ان کا ابتدائی پانچ سو دن کا منصوبہ بہت پیچھے رہ گیا۔ سفر بڑھتا گیا، ملکوں کی تعداد بڑھتی گئی اور ہنی مون تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا! :)

دسمبر 2016 تک واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وہ پانچ سال میں تقریباً پچاس ملک دیکھ چکے تھے۔

اب ایک اور دلچسپ بات۔ شروع میں ان کا گزارا اپنی بچت سے ہوتا تھا۔ لیکن سفر کے دوران انہوں نے اپنی تصاویر، تجربات اور سفری مشورے ایک ویب سائٹ پر شائع کرنا شروع کیے جس کا نام ہنی ٹریک رکھا۔

آہستہ آہستہ لوگ ان کی کہانیاں پڑھنے لگے۔ پھر سفری مضامین لکھنے، فوٹوگرافی، سیاحتی اداروں کے ساتھ کام کرنے اور دوسروں کو سفر کی منصوبہ بندی سکھانے سے بھی آمدنی ہونے لگی۔ یعنی جو سفر پہلے بچت کے سہارے شروع ہوا تھا، وہ آگے چل کر ان کا کام اور کاروبار بھی بن گیا۔

ان کی کہانی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے علاوہ لاس اینجلس ٹائمز اور دوسرے بڑے اخبارات میں بھی شائع ہوئی۔

کہانی میں سب سے دلچسپ بات ان کے پچاس ملک گھومنے کی نہیں لگی، بلکہ ان کی منصوبہ بندی نے متاثر کیا۔

انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ جب بہت امیر ہوجائیں گے تو دنیا دیکھیں گے۔ پہلے کام کیا، پیسے بچائے، اخراجات کا حساب لگایا، پھر اپنی خواہش پوری کرنے نکل پڑے۔ اور راستے میں اپنے شوق کو روزگار میں بھی بدل لیا۔

اب اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمارے دوست حاجی صاحب کل صبح دفتر جاکر استعفیٰ دے دیں اور بیگ اٹھا کر نکل پڑیں۔ بھائی، گھر کا خرچہ، بجلی کے بل اور بچوں کی فیس بھی ہر ماہ دینی ہوتی ہے! :)

میں خود سفر کا شوقین ہوں، اپنے تجربے سے کہہ سکتا ہوں کہ سفر انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے۔ آپ مختلف لوگوں سے ملتے ہیں، ان کی زندگی دیکھتے ہیں، نئے معاشروں کو سمجھتے ہیں اور بعض اوقات اپنی سوچ بھی بدل لیتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ دنیا دیکھنے کے لیے ملازمت چھوڑ دی جائے یا پچاس ملک گھومے جائیں۔ پاکستان میں بھی بے شمار خوبصورت اور دلچسپ مقامات ہیں جہاں ہم زندگی بھر رہ کر بھی نہیں جاتے۔

تھوڑی سی بچت، اچھی منصوبہ بندی اور سال میں چند دن نکال کر بھی بہت کچھ دیکھا جاسکتا ہے۔

پیسہ کمانا یقیناً ضروری ہے، لیکن کبھی کبھی اس پیسے سے اپنے لیے کچھ اچھی یادیں بھی بنا لینی چاہیئے۔۔

— سہیل بلخی

ماخذ: واشنگٹن پوسٹ، 7 دسمبر 2016؛ لاس اینجلس ٹائمز، ستمبر 2013؛ اور مائیک و این ہاورڈ کے سفری تجربات۔

پاکستان نے ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق میزائل جدید نیوی گیشن اور ایویونکس نظام...
13/10/2026

پاکستان نے ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق میزائل جدید نیوی گیشن اور ایویونکس نظام سے لیس ہے اور زیادہ درستگی سے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

11/10/2026

حکومت نے جلد بازی اور زیادتی کی، معاملات تقریباً طے ہوگئے تھے، پی ٹی آئی کچھ معاملات میں پیچھے ہٹ گئی تھی، ہم نے جو طے کیا وہ حکومت کے اطمینان کے بھی قریب تھا، رہنماء جے یو آئی ف کامران مرتضیٰ کا انکشاف

11/10/2026

Address

Swat Kpk
Khwazakhela
19110

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00

Telephone

+923018049346

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when INSAF News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to INSAF News:

Shortcuts

Share