17/10/2026
کیا آپ یقین کریں گے اگر میں کہوں کہ اب ہوا سے پانی حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے؟ جی ہاں، یہ کوئی جادو نہیں بلکہ سائنس کا ایک ایسا کمال ہے جو لاکھوں لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔
نوبل انعام یافتہ کیمسٹ ڈاکٹر عمر یاغی نے ایک ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے جو دنیا کے خشک ترین علاقوں میں بھی ہوا سے صاف پینے کا پانی بنا سکتی ہے۔ ان کی کمپنی 'Atoco' نے ایک ایسا سسٹم تیار کیا ہے جو روزانہ ایک ہزار لیٹر تک پانی پیدا کر سکتا ہے۔ سائز میں یہ ایک عام شپنگ کنٹینر جتنا ہے، لیکن اس کے کارنامے بے مثال ہیں۔ سوچیے، جہاں قحط پڑا ہو یا قدرتی آفات کی وجہ سے پانی کی سپلائی تباہ ہو چکی ہو، یہ مشین وہاں کے لوگوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں۔
اس کا راز 'MOFs' نامی ایک خاص مائیکروسکوپک میٹریل میں چھپا ہے۔ یہ بالکل اسفنج کی طرح کام کرتے ہیں اور ہوا میں موجود نمی کے ذرات کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں، چاہے ہوا کتنی ہی خشک کیوں نہ ہو۔ پھر سورج کی ہلکی گرمی یا عام حرارت استعمال کر کے اس نمی کو پانی میں تبدیل کر لیا جاتا ہے۔ عام ایئر کنڈیشنرز میں بھی نمی پانی بنتی ہے، لیکن یہ سسٹم خاص طور پر ہوا سے پانی نکالنے کے لیے ہی بنایا گیا ہے اور اسے نہروں، کنوؤں یا واٹر پائپ لائنز کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔
اس ایجاد کے پیچھے ڈاکٹر عمر یاغی کی ایک بہت ہی جذباتی کہانی ہے۔ وہ اردن میں ایک مہاجر خاندان میں پیدا ہوئے اور بچپن میں انہوں نے پانی کی شدید قلت اور بغیر پانی کے جینے کا درد خود محسوس کیا۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنی زندگی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وقف کر دی، جس پر انہیں 2025 کا نوبل انعام برائے کیمسٹری بھی ملا۔
البتہ، مشین کی اصل پیداوار موسم اور حرارت پر منحصر ہے اور اسے ہر جگہ لگانا ابھی ایک چیلنج ہے۔ لیکن اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ہو گئی، تو دور دراز کے علاقوں اور پانی سے محروم کمیونٹیز کے لیے ہوا میں موجود نمی ہی زندگی کا سبب بن جائے گی۔ واقعی، سائنس نے ایک اور بار ثابت کر دیا کہ ناممکن کچھ بھی نہیں